ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بمبئی ہائی کورٹ نے حکومت پر لگایا زبردست طمانچہ؛ کہا، "تبلیغی جماعت کو بلی کا بکرا بنایا گیا"، تبلیغیوں پر عائد ایف آی آر کو قرار دیا کالعدم

بمبئی ہائی کورٹ نے حکومت پر لگایا زبردست طمانچہ؛ کہا، "تبلیغی جماعت کو بلی کا بکرا بنایا گیا"، تبلیغیوں پر عائد ایف آی آر کو قرار دیا کالعدم

Sat, 22 Aug 2020 20:13:48    S.O. News Service

ممبئی 22 اگست (ایس او نیوز/ایجنسی)  بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد برانچ نے جمعہ کو  28 غیر ملکیوں سمیت 34 تبلیغی جماعت کے  کارکنوں  کے خلاف کریمنل کیسس درج کرنے پرسخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تمام معاملات کو کالعدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان  کے خلاف عملی طور پر ظلم و ستم ہوا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جب ایک وبائی بیماری یا کوئی آفت آتی ہے تو ایک سیاسی حکومت قربانی کا بکرا تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور حالات ظاہر کرتے ہیں کہ ان غیر ملکیوں کو قربانی کا بکرا بنانے کیلئے منتخب کیا گیا تھا۔ اب وقت آگیا ہے کہ متعلقہ افراد غیر ملکیوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی سے توبہ کریں اور اس طرح کے اقدام سے ہونے والے نقصان کی اصلاح کیلئے مثبت قدم اٹھائیں ۔عدالت  نے میڈیا کے رویے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ نظام الدین مرکز دہلی آنے والے غیر ملکیوں کے خلاف پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں بہت بڑا پروپیگنڈا ہوا تھا اور ان کی ایسی شبیہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی کہ ہندوستان میں کووڈ۔۱۹؍ پھیلانے کے لئے یہ غیر ملکی ذمہ دار ہیں ۔ عدالت نے کہا کہ ان غیر ملکیوں کے خلاف عملی طور پر ظلم و ستم ہوا ہے۔

جمعہ کو سخت الفاظ میں کئے گئے فیصلے میں بمبئی  ہائی کورٹ نے  29 غیر ملکی تبلیغی جماعت سمیت 34 تبلیغیوں کے  خلاف درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دے دیا۔ خیال رہے کہ  ان کے خلاف آئی پی سی ، وبائی بیماریوں کے ایکٹ ، مہاراشٹر پولیس ایکٹ ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ اور غیر ملکی ایکٹ کی مختلف دفعات نیز سیاحتی ویزے کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کرتے ہوئے تبلیغی جماعت (نظام الدین ، دہلی) کی جماعت میں شرکت کرنے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ غیر ملکی شہریوں کے علاوہ پولیس نے درخواست گزاروں کو پناہ دینے کیلئے چھ ہندوستانی شہریوں اور مساجد کے ٹرسٹیان  کو بھی حراست میں لیا تھا لیکن اورنگ آباد بنچ کے جسٹس ٹی وی نلواڑے اور جسٹس ایم جی سیولیکر کی ڈویژن بنچ نے آئیوری کوسٹ ، گھانا ، تنزانیہ ، جبوتی ، بینن اور انڈونیشیا جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے درخواست گزاروں کی طرف سے دائر تین الگ الگ درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے ان کے خلاف فوجداری مقدمات کو ختم کردیا۔

واضح رہے کہ پولیس نے  دعویٰ کیا تھا کہ تبلیغی جماعت والوں کے بارے میں انہیں خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ وہ مختلف علاقوں کی مساجد میں مقیم ہیں اور لاک ڈاؤن کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں۔ درخواست کنندگان کے مطابق وہ حکومت ہند کی جانب سے جاری کردہ ویزے پر ہندوستان آئے تھے ،  ان کا مؤقف تھا  کہ ہندوستانی ایئرپورٹ پر ان کی کووڈ۔۱۹؍ کی اسکریننگ کی گئی تھی اور جب ان کی رپورٹ منفی آئی تو انہیں ایئرپورٹ سے نکلنے کی اجازت دی گئی تھی۔ علاوہ ازیں ، انہوں نے ضلع احمد نگر کے ڈی ایس پی کو اپنی آمد کی اطلاع دی تھی۔ ۲۳؍ مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے سبب گاڑیوں کی آمدورفت اور رہائشی ہوٹلوں کو بند کردیا گیا تھا۔ ایسی صورت میں انہیں مساجد  میں پناہ لینی پڑی تھی۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی  قسم کے غیر قانونی کام میں ملوث نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے کسی اصول کی خلاف ورزی کی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ دہلی میں تبلیغی جماعت کے نظام الدین   مرکز میں بھی سماجی دوری کے اصول پر وہ سختی سے عمل پیرا تھے۔ انہوں نے یہ دلیل بھی پیش کی کہ ویزا دیتے وقت انہیں مقامی حکام کو اطلاع دینے کیلئے نہیں کہا گیا تھا لیکن انہوں نے مقامی افسران کو اطلاع دی تھی۔درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ ویزا کی شرائط کے تحت ، مساجد جیسے مذہبی مقامات کی سیر کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔  دوسری جانب، ڈی ایس پی (احمد نگر) کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ درخواست کنندگان مختلف مقامات پر اسلام کی تبلیغ کرتے نظر آئے تھے اس لئے ان کے خلاف جرائم درج کئے گئے۔ انہوں نے یہ دلیل بھی دی کہ ۳؍ مختلف معاملات میں ۵؍ غیر ملکی وائرس سے متاثر پائے گئے تھے نیز قرنطینہ کی مدت ختم ہونے کے بعد تمام درخواست کنندگان کو رسمی طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔

ڈی ایس پی کی جانب سے جمع کی جانے والی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی جانب سے تمام عوامی مقامات کو بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم، درخواست کنندگان ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تبلیغی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تھے۔ علاوہ ازیں ، عوامی مقامات پر اعلان بھی کیا گیا تھا کہ جن افراد نے نظام الدین مرکز   کے اجتماع میں شرکت کی تھی وہ وائرس کی تشخیص کروانے کیلئے رضا کارانہ طور پر سامنے آئیں لیکن یہ افراد رضاکارانہ طور پر سامنے نہیں آئے اور یوں انہوں نے کووڈ۔۱۹؍ کو پھیلانے کا خطرہ پیدا کیا۔

درخواست گزاروں پر آئی پی سی کی دفعہ ۱۸۸، ۲۶۹، ۲۷۰؍ اور ۲۹۰، دفعہ ۳۷ (۱)(۳)، مہاراشٹر پولیس ایکٹ ۱۹۵۱ء کی ۱۳۵، مہاراشٹر کووڈ۔۱۹؍ میزرس اینڈ رولز ۲۰۲۰ء کی دفعہ ۱۱، اپیڈیمک ڈیزیزس ایکٹ ۱۸۹۷ء کی دفعہ ۲، ۳؍ اور ۴، فارنرس ایکٹ ۱۹۴۶ء کی دفعہ ۱۴ (بی) اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ ۲۰۰۵ء کی دفعہ ۵۱ (بی) لگائی گئی تھیں ۔

جسٹس نلواڑے نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’تمام مواد سے معلوم ہوتا ہے کہ ویزا کے تازہ ترین دستور العمل کے تحت غیر ملکیوں کو مذہبی مقامات پر جانے اور مذہبی گفتگو میں شرکت کرنے جیسے عام مذہبی سرگرمیوں میں جانے پر پابندی نہیں ہے۔ عام طور پر توقع نہیں کی جاتی ہے کہ اگر سیاح مذہبی نظریات وغیرہ کی تبلیغ نہیں کرنا چاہتا ہے تو پیرا گراف نمبر۱۹ء۸؍ میں وضع کردہ طریقہ کار پر عمل کرے گا۔ ‘‘ اے پی پی ایم ایم نیرلیکر نے استدعا کی کہ ایک رٹ پٹیشن سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے اور اس معاملے میں کچھ اسی طرح کے غیر ملکیوں کے ذریعہ ریلیف کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ۲؍  اپریل کو فیصلے کے ذریعے۹۵۰؍ غیر ملکیوں کو بلیک لسٹ کرنے کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے اس طرح کا اعلان کرنے سے پہلے اس کی پیروی نہیں کی گئی تھی۔لہٰذا ، موجودہ کارروائی کا فیصلہ کرنا مطلوب نہیں ہے کیونکہ سپریم کورٹ کا ابھی اس معاملے کا فیصلہ کرنا باقی ہے۔ تاہم عدالت نے مذکورہ دلائل کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔

جسٹس نلواڈے نے کہا کہ ’’ریکارڈ پر موجود مواد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تبلیغی جماعت مسلمانوں کا ایک الگ فرقہ نہیں ہے بلکہ یہ صرف مذہب کی اصلاح کیلئے متحرک ہے۔ ہر مذہب اصلاح کے باعث ہی بڑھتا ہے چونکہ معاشرے میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں اس لئے اصلاح کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ کسی بھی معاملے میں ، حتیٰ کہ پیش کردہ ریکارڈ سے بھی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ غیر ملکی دوسرے مذہب کے افراد کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے یا اسلام پھیلا رہے تھے۔ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ غیر ملکی ہندی یا اردو جیسی ہندوستانی زبانیں بول رہے تھے بلکہ وہ عربی اور فرانسیسی وغیرہ جیسی زبانیں بول رہے تھے ، مذکورہ بالا بحث کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ غیر ملکیوں کا اصلاح کے تعلق سے تبلیغی جماعت کے خیالات کو جاننے کا ارادہ ہوسکتا ہے۔ ان پر عائد کئے گئے الزامات مبہم ہیں اور ان میں سے کسی میں بھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اسلام پھیلانے کی کوشش کررہے تھے اور ان کا کسی کا مذہب تبدیل کروانے کا ارادہ تھا۔ اور نہ ہی اس معاملے میں غیر ملکیوں کی جانب سے کسی بھی طرح سے لوگوں کو قائل کرنے کا کوئی عنصر تھا۔‘‘

عدالت کے مطابق  جب ایک وبائی بیماری یا کوئی آفت آتی ہے تو ایک سیاسی حکومت قربانی کا بکرا تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور حالات ظاہر کرتے ہیں کہ ان غیر ملکیوں کو قربانی کا بکرا بنانے کیلئے منتخب کیا گیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ   مذکورہ بالا حالات اور ہندوستان میں انفیکشن کے تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ موجودہ درخواست گزاروں کے خلاف ایسی کارروائی نہیں کی جانی چاہئے تھی۔ اب وقت آگیا ہے کہ متعلقہ افراد غیر ملکیوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی سے توبہ کریں اور اس طرح کے اقدام سے ہونے والے نقصان کی اصلاح کیلئے مثبت قدم اٹھائیں ۔‘‘ آخر میں ، پرانی ہندوستانی کہاوت ’’آتیتھی دیوو بھوا‘‘ (ہمارے مہمان ہمارے خدا ہیں ) کا حوالہ دیتے ہوئے ، جسٹس نلواڈے نے کہا کہ موجودہ معاملے کے حالات ایک سوال پیدا کرتے ہیں کہ کیا ہم واقعی اپنی اس عظیم روایت اور ثقافت پر عمل کررہے ہیں ؟ کووڈ۔۱۹؍ وبائی امراض کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے دوران ، ہمیں مزید رواداری برتنے کی ضرورت ہے اور ہمیں اپنے مہمانوں خصوصاً موجودہ درخواست دہندگان کی جانب زیادہ حساس ہونے کی ضرورت ہے۔ الزامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ان کی مدد کرنے کے بجائے ان پر الزامات لگا کر جیلوں میں یہ کہتے ہوئے قید کررہے ہیں کہ وہ سفری دستاویزات کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور وائرس وغیرہ کے پھیلاؤ کے ذمہ دار ہیں ۔

یاد رہے کہ گذشتہ مارچ میں تبلیغی جماعت اُس وقت سُرخیوں میں آگئی تھی جب  کورونا کو لے کر اچانک حکومت کی جانب سے لاک ڈاون کا اعلان کرنے کے بعد نئی دہلی کے نظام الدین تبلیغی مرکز میں  تبلیغی جماعت کے کارکن پھنسے ہونے کی بات سامنے آئی تھی۔میڈیا نے اس بات کا خوب واویلا مچایا تھا اور اس بات کا دعویٰ کیا جارہا تھا کہ  تبلیغی جماعت کے لوگوں سے ملک میں کورونا پھیلا ہے۔  تبلیغی جماعت کے اس مرکز کو بعد میں سیلڈ ڈاون کیا گیا تھا اور سینکڑوں لوگوں کو کورنٹائن کیا گیاتھا۔ پولس نے  ابتدائی طور پر  جماعت کے چیف مولانا سعد کے خلاف لاک ڈاون کی خلاف ورزی کا معاملہ درج کیا تھا بعد میں اُن پر  سخت دفعات (culpable homicide) کے تحت کریمنل کیس عائد کئے گئے تھے جس میں دس سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ مرکزی حکومت نے نظام الدین مرکز میں پھنسے 1500 غیر ملکیوں پر ویزا  قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا معاملہ درج کیا تھا جس میں مہاراشٹرا کے لوگ بھی شامل تھے اور ان پر کورونا وائرس کو پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا تھا لیکن بمبئی ہائی کورٹ نے حکومت کے دعوے پر زبردست طمانچہ جُڑ دیا اور  کہا کہ  غیر ملکیوں کے پاس  ہندوستان آنے کی ویزا موجود ہے تو انہیں کسی بھی مسجد میں داخل ہونے سے روکا نہیں جاسکتا، وہ ملک میں  کہیں بھی جاسکتے ہیں اور اپنے مذہب پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں۔


Share: